Skip to main content

کراچی سے گوادر ۔ 1


پندرہ گھنٹے کی طویل فلائٹ جس میں سات گھنٹے کا ریاض، سعودی عرب میں ٹرانزٹ بھی شامل تھا، نے مجھے کراچی پہنچا دیا۔ جرمنی کے ۵ ڈگری سینٹی گریڈ سے سیدھا ۲۴ ڈگری میں آیا تھا تو تھوڑا ڈر رہا تھا کہ جانے موسم کیا اثر کرے گا اور اوپر سے علی کے پلان کے بھی کیا کہنے ۔ دو دن پہلے جو بات ہوئی تو کہتا ہے کہ ہم "شائد" سیدھا ایئرپورٹ سے ہی گوادر کو روانہ ہو جائیں۔ اس شائد سے مجھے بڑی آس تھی۔ گوادر کراچی سے قریباً سات سو کلومیٹر دور ہے ۔ ایسا سفر توبالکل تازہ دم حالت میں میری چولیں ہلا دے ، اب تو میں ریاض ایئرپورٹ پہ کروٹیں بدل بدل کے سونے کی کوششِ ناکام کے بعد کراچی پہنچا تھا۔۔۔ خیر پہلا کام تو تھا علی کو ڈھونڈنا۔ نظر نہیں آیا تو ایک بندے سے فون ادھار مانگا۔ اْن بھائی نے مجھے پہلے اوپر سے نیچے تک گھورا، میں نے انتہائی مسکین صورت بنا کے واپس گھورا، کچھ تسلی ہوئی تو بولے : "کیا نمبر ہے۔" نمبر ملا تو علی کی چہچہاتی آواز آئی: "جنّے!! پہنچ گیا؟" مجھے ڈر تھا کہ شائد شادی اور اب ماشا اللہ بچوں کی ذمہ داری کے بعد بدل گیا ہو گا اور وہ یارانہ نظر نہیں آئے گا۔ مگر ایئرپورٹ کی چھوٹی سی کال نے سب خدشات رفع کر دئیےجب پتا چلا کہ ہمیشہ کی طرح موصوف لیٹ تھے (وہ بھی پورا گھنٹہ )اور ہمیشہ کی طرح یہ بھی کسی طرح میری ہی غلطی تھی ( جہاز پہلے جو پہنچ گیا) ورنہ علی تو وقت پہ ہی آرہا تھا۔


گوادر پاکستان کے جنوبی ساحل پہ بلوچستان میں واقع ہے۔
وہیں علی کے پرانے دوست شعیب سے بھی ملا جو کہ گوادر دیکھنے کے شوق میں پنڈی سے ایک دن پہلے ہی پہنچا تھا۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی علی بولا: "تیار ہے بوائے؟" 
میرا ماتھا ٹھنکا : "کیا مطلب؟"
"جا رہے ہیں آج ہی ۔ No rest for you ۔" 
 میری امید دم توڑ گئی پھر بھی پوچھا:  "گوادر؟" 
"نہیں۔۔۔ جیونی۔"
"وہ کیا ہے؟"
"وہ گوادر سے  آگے ایران بارڈر کے پاس ایک چھوٹا سا شہر ہے۔ دیکھ ،  مزہ سفر کا آتا ہے ۔ منزل میں کیا رکھا ہے۔"
دِل میں سوچا: وڑ گئے بھئی
  پر دل کڑا کر علی کو بولا : "چلو جی چلو۔ سامان تو کہیں رکھنے دے اور ایک  shower  لے لوں؟"
 "ہاں۔۔ ایک اور لڑکے کو اٹھانا ہے۔  اْس کے ہاں    نہا لیں۔"
 راستے میں   گوادر skip  کرنے  کی  اصل وجہ بتائی ۔ "یار وہاں رات ٹھہرنے  کا انتظام نہیں ہے آج کے لئے۔" 
"تو جیونی میں انتظام ہے۔ بہتر ہے پھر تو۔ کوئی اچھا  contact مل گیا وہاں؟" 
"Contact کی قِسم ہے ایک۔  جیونی میں  انتظام فی الحال  نہیں ہے ۔ مگر امید ہے۔"  
میں نے سر پیٹ لیا۔  یقیناً یہ ایک دلچسپ سفر ہونے والا تھا۔


سفر کے رفیق کار : علی، شعیب، حارث اور دھَنو
اگلا سٹاپ ایک مکان میں ہوا جہاں نہانے کی امید تھی۔  وہاں سے ایک اور لڑکے کو پِک کرنا تھا۔ یہ علی کے ساتھ کام کرتا تھا اور حارث نام تھا۔  معقول لڑکا ہی لگ رہا تھا جب تک  اْس سے نہانے کا  انتظام نہیں پوچھ لیا  ۔ اْس نے غسل خانہ دکھایا  ۔ میں نے ایک نظر اندر ماری اور پوچھا "تولیہ؟" تولیہ ڈھونڈنے کے بہانے  وہ ساتھ کہ کمرے میں گیا اور واپس آ کہ بولا:
 "تولیہ تو نہیں ہے۔ ایسے ہی نہا لو۔"
   میں  نے نہانا تو ایسے ہی تھا، تولیہ تو نہانے کے بعد کام آتا مگر ابھی یورپ کا تھوڑا رنگ مجھ پہ  باقی تھا سو  یہ نقطہ اْسے سمجھانے کہ لیے  کوئی بہتر اسلوب سوچ ہی رہا تھا کہ علی اْس پہ گرجا۔
"یار حارث۔ بکواس نہ کر ۔۔ تیرے پاس کوئی تولیہ نہیں ہے؟"
"قسم سے کوئی تولیہ نہیں ہے۔"
"پھر تْو خود کیسے نہاتا   ہے۔"
"میں ایسے ہی باہر آ جاتا ہوں۔ تھوڑی دیر میں بندہ سوکھ جاتا ہے۔"
علی نے میری طرف دیکھا : " چل تْو بھی ایسے ہی نہا لے۔ زیادہ جرمن نہ بن۔ یہاں ہر چیز proper  نہیں ہوتی۔ وقت پہلے ہی کم ہے۔"  میں نے کڑوا گھونٹ بھرا  اور دل کو یہ  سمجھاتے ہوئے  غسل خانے میں داخل ہو گیا کہ پانی تو ہے نا کم از کم۔


مکران کوسٹل  ہائی وے
خیر اب ہم چار وہاں سے نکلے  ۔ اگلا سٹاپ حَب کا شہر تھا جو کراچی کے مضافات میں  واقع ہے۔ یہاں  سے پٹرول وغیرہ بھروانا تھا کیونکہ  تمام اطلاعات کے مطابق مکران کوسٹل ہائی وے پہ کوئی پٹرول پمپ نہیں ہے۔ یہ ہائی وے  ۲۰۰۲   ؁    - ۲۰۰۴ ؁   میں مشرف کے دور میں تعمیر  کی گئی تھی۔ اِس  سے پہلے  یہاں صرف ایک  جیپ  کا کچا راستہ تھا اور کراچی سے گوادر جانے کے لیے قریباً دو دن درکار ہوتے تھے۔  اِس ہائی وے کا مقصد  بلوچستان کے ساحلی علاقوں کو بہتر رابطہ دینا تھا  خصوصاً پسنی، اورماڑہ اور گوادر   کو کراچی سے منسلک کرنا۔ بلوچستان کی ساحلی پٹی تقریباً  سات  سو کلومیٹر لمبی ہے۔ اِس  میں   معاشی ترقی و سیاحت کے فروغ  کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔  اِس کی بہترین مثال گوادر کا شہر ہے جو کہ کبھی ایک چھوٹا سا قصبہ تھا مگر  اب ایشیاء کا ایک بڑا پورٹ بننے کے عمل میں ہے جس کا سب سے زیادہ فائدہ لامحالہ مقامی آبادی کو ہی حاصل ہو گا۔ چین کے ساتھ معاشی راہداری کے منصوبے نے  اِس سڑک کو محفوظ بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔  سنسان ہونے کی وجہ سے کبھی یہ علاقہ رہزنی کے لیے مشہور تھا مگر اب عام نقل و حمل اور کوسٹ گارڈز کی محنتوں سے یہ راستہ  قدرے  محفوظ ہو چکا ہے۔ مکمل محفوظ ہونے کا دعوٰی اِس لئے نہیں کر سکتا کیونکہ علی  نے سفر شروع ہوتے ہی بتا دیا کہ اْس کہ کچھ "جاننے والوں کہ جاننے والوں" کا کچھ ماہ پہلے  اِسی سڑک پہ    ڈاکوؤں سے سامنہ ہو چکا ہے۔ ڈاکو ٹویوٹا ویگو (Toyota Vigo)  میں سوار تھے سو اب ہم سب کا فرض  تھا کہ پورا راستہ  چوکنہ رہیں ۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ  ہر  بڑی  گاڑی  کو شکی نگاہ سے دیکھا گیا  اور    جب کوئی ویگو نظر آئی ، خوامخواہ  ہمارے دل کی دھڑکن تیز کر گئی۔

(بقیہ اگلے حصے میں)

Comments

Post a Comment