پسنی کا مصروف پورٹ ( source ) " رات کے ساڑھے گیارہ بج چکے تھے اور پسنی شہر آنے کا نام نہ لے رہا تھا۔ کوسٹل ہائی وے، جو دِن کے وقت بھی کوئی بہت پْر رونق سڑک نہیں ہے، پہ ہو کا عالم تھا۔ ایک اکلوتی ہماری گاڑی کے علاوہ کوئی ذِی روح موجود نہیں تھی۔ سب خاموش تھے اور انتظار کر رہے تھے کہ کے کچھ آبادی نظر آئے تو جان میں جان آئے۔ اللہ بھلا کرے GPS کا جس کی وجہ سے ہمیں گْم ہونے کا قطعی احساس نہ ہوا۔ قریباً پندرہ منٹ بعد کوئی عمارتوں کے آثار نظر آئے تو ہوا میں تناؤ کم ہوا۔ ہم دِل ہی دِل میں خوش ہوئے کہ خیریت سے پہنچے۔ یکا یک سنسان سڑک پہ ایک فلیش لائٹ چمکی اور سیٹی کی کی آواز آئی ۔علی نے گاڑی آہستہ کر لی ۔ پسنی مکران کوسٹل ہائی وے پہ ایک مچھیروں کا شہر ہے۔ بھاری مونچھوں والا ایک شخص سڑک کے بیچ میں کھڑا ، ٹارچ سے گاڑی روکنے کا اژارہ کر رہا تھا۔ گاڑی رْکی تو اْس نے علی کو باہر نکلنے کو کہا۔ ہم سب کے اوسان خطا ہو گئے اور سوچا کہ یہی ہے وہ لمحہ جس کے لئے والدین اِس طرح کی ت...