مسلسل سفر کرتے ہوئے مجھے بیس گھنٹے ہو چکے تھے۔ صرف ایک دن پہلے میں جرمنی کے دس ڈگری والے ٹھنڈے موسم سے لطف لے رہا تھا اور اب پینتیس ڈگری میں بلوچستان کے صحرا میں ایک بیاباں سڑک پہ سفر کر رہا تھا اور کوئی انت نظر نہیں آ رہا تھا۔ مگر چونکہ دوست ساتھ تھے تو کچھ امید باقی تھی۔ حَب سے پٹرول کے کچھ زائد کنستر بھی بھروا لئے تھے کیونکہ آگے اب پٹرول سات سو کلومیٹر بعد گوادر میں ہی مل سکتا تھا۔ وہیں کچھ پیٹ کے ایندھن کا بھی بندوبست کیا یعنی ایک جنرل سٹور سے بسکٹ، چپس اور ٹھنڈی بوتلیں غرض سب اچھی صحت کی نشانیاں لے لیں۔ "یار میں نے کہا تھا کہ Wavy لے کر آنا"، علی کھانے کی چیزیں پھولتے ہوئے بولا۔ " Wavy نہیں تھے"، میں بولااور علی نے منہ بنا کہ کولا کی چسکی لی ۔ مجھے پتہ لگ گیا کہ Wavy کی یہ مانگ آگے بھی ساتھ دے گی ہمارا۔ ہمارا اگلا سٹاپ بلوچستان کے زیرو پوائنٹ پہ چائے کے بہانے سے ہوا۔ یہاں سے کوسٹل ہا...