Skip to main content

Posts

Showing posts from June, 2017

کراچی سے گوادر ۔ 1

پندرہ گھنٹے کی طویل فلائٹ جس میں سات گھنٹے کا ریاض، سعودی عرب میں ٹرانزٹ بھی شامل تھا، نے مجھے کراچی پہنچا دیا۔ جرمنی کے ۵ ڈگری سینٹی گریڈ سے سیدھا ۲۴ ڈگری میں آیا تھا تو تھوڑا ڈر رہا تھا کہ جانے موسم کیا اثر کرے گا اور اوپر سے علی کے پلان کے بھی کیا کہنے ۔ دو دن پہلے جو بات ہوئی تو کہتا ہے کہ ہم "شائد" سیدھا ایئرپورٹ سے ہی گوادر کو روانہ ہو جائیں۔ اس شائد سے مجھے بڑی آس تھی۔ گوادر کراچی سے قریباً سات سو کلومیٹر دور ہے ۔ ایسا سفر توبالکل تازہ دم حالت میں میری چولیں ہلا دے ، اب تو میں ریاض ایئرپورٹ پہ کروٹیں بدل بدل کے سونے کی کوششِ ناکام کے بعد کراچی پہنچا تھا۔۔۔ خیر پہلا کام تو تھا علی کو ڈھونڈنا۔ نظر نہیں آیا تو ایک بندے سے فون ادھار مانگا۔ اْن بھائی نے مجھے پہلے اوپر سے نیچے تک گھورا، میں نے انتہائی مسکین صورت بنا کے واپس گھورا، کچھ تسلی ہوئی تو بولے : "کیا نمبر ہے۔" نمبر ملا تو علی کی چہچہاتی آواز آئی: "جنّے!! پہنچ گیا؟" مجھے ڈر تھا کہ شائد شادی اور اب ماشا اللہ بچوں کی ذمہ داری کے بعد بدل گیا ہو گا اور وہ یارانہ نظر نہیں آ...

استنبول : باہمی معاشرت و بقا کی ایک منفرد مثال

پچھلے برس رمضان کے مہینے میں میرا استنبول جانا ہوا۔ تین دنوں کے اِس مختصر سفر میں ایک نئی طرزِ معاشرت سے میرا تعارف ہوا جس نے میرے معاشرتی مفروضوں کو یکثر بدل کے رکھ دیا۔ پہلے میرا  ماننا یہ تھا کہ مختلف معاشرے ایک سماج میں اکٹھے نہیں ہو سکتے اور اس ضمن میں کی گئی کِسی بھی کوشش کا   نتیجہ ایک مشکل مفاہمت  ہو گی جو تمام شامل گروہوں کو چڑچڑا اور تلخ کر دے گی۔ جرمنی میں مقیم پاکستانی ہونے کے نا طے سے  مشرق و مغرب کی  معاشرتی تفریقوں  کا مجھے کافی حد تک احساس ہے۔ حالانکہ آج  دنیا کےبہت شہروں میں مختلف معاشرتی گروہ   باہم موجود  ہیں مگر مشرقی و یورپی اقدار میں صحیح  مفاہمت  میرے لیے دور کے خیالات ہی تھے۔  استنبول کے مختصر دورے نے میرے یہ تمام خیالات بدل ڈالے۔   استنبول ترکی کے شمال مغرب میں واقعہ ہے۔ استنبول ترکی  کے شمال مغرب میں آبنائے  باسفورس (ایشیا اور یورپ کو علیحدہ کرتی ہوئی پانی کی پتلی سی گزرگاہ )کے گرد واقع ہے۔ دنیا کے تمام شہروں میں صرف استنبول کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس کا رقبہ دو برِاعظموں پ...