پندرہ گھنٹے کی طویل فلائٹ جس میں سات گھنٹے کا ریاض، سعودی عرب میں ٹرانزٹ بھی شامل تھا، نے مجھے کراچی پہنچا دیا۔ جرمنی کے ۵ ڈگری سینٹی گریڈ سے سیدھا ۲۴ ڈگری میں آیا تھا تو تھوڑا ڈر رہا تھا کہ جانے موسم کیا اثر کرے گا اور اوپر سے علی کے پلان کے بھی کیا کہنے ۔ دو دن پہلے جو بات ہوئی تو کہتا ہے کہ ہم "شائد" سیدھا ایئرپورٹ سے ہی گوادر کو روانہ ہو جائیں۔ اس شائد سے مجھے بڑی آس تھی۔ گوادر کراچی سے قریباً سات سو کلومیٹر دور ہے ۔ ایسا سفر توبالکل تازہ دم حالت میں میری چولیں ہلا دے ، اب تو میں ریاض ایئرپورٹ پہ کروٹیں بدل بدل کے سونے کی کوششِ ناکام کے بعد کراچی پہنچا تھا۔۔۔ خیر پہلا کام تو تھا علی کو ڈھونڈنا۔ نظر نہیں آیا تو ایک بندے سے فون ادھار مانگا۔ اْن بھائی نے مجھے پہلے اوپر سے نیچے تک گھورا، میں نے انتہائی مسکین صورت بنا کے واپس گھورا، کچھ تسلی ہوئی تو بولے : "کیا نمبر ہے۔" نمبر ملا تو علی کی چہچہاتی آواز آئی: "جنّے!! پہنچ گیا؟" مجھے ڈر تھا کہ شائد شادی اور اب ماشا اللہ بچوں کی ذمہ داری کے بعد بدل گیا ہو گا اور وہ یارانہ نظر نہیں آ...