Skip to main content

استنبول : باہمی معاشرت و بقا کی ایک منفرد مثال


پچھلے برس رمضان کے مہینے میں میرا استنبول جانا ہوا۔ تین دنوں کے اِس مختصر سفر میں ایک نئی طرزِ معاشرت سے میرا تعارف ہوا جس نے میرے معاشرتی مفروضوں کو یکثر بدل کے رکھ دیا۔ پہلے میرا  ماننا یہ تھا کہ مختلف معاشرے ایک سماج میں اکٹھے نہیں ہو سکتے اور اس ضمن میں کی گئی کِسی بھی کوشش کا   نتیجہ ایک مشکل مفاہمت  ہو گی جو تمام شامل گروہوں کو چڑچڑا اور تلخ کر دے گی۔ جرمنی میں مقیم پاکستانی ہونے کے نا طے سے  مشرق و مغرب کی  معاشرتی تفریقوں  کا مجھے کافی حد تک احساس ہے۔ حالانکہ آج  دنیا کےبہت شہروں میں مختلف معاشرتی گروہ   باہم موجود  ہیں مگر مشرقی و یورپی اقدار میں صحیح  مفاہمت  میرے لیے دور کے خیالات ہی تھے۔  استنبول کے مختصر دورے نے میرے یہ تمام خیالات بدل ڈالے۔
 
استنبول ترکی کے شمال مغرب میں واقعہ ہے۔
استنبول ترکی  کے شمال مغرب میں آبنائے  باسفورس (ایشیا اور یورپ کو علیحدہ کرتی ہوئی پانی کی پتلی سی گزرگاہ )کے گرد واقع ہے۔ دنیا کے تمام شہروں میں صرف استنبول کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس کا رقبہ دو برِاعظموں پہ پھیلا ہوا ہے ۔ اپنے محل و وقوع کی طرح اس کی ثقافت بھی ایشیا اور یورپ  احاطہ کرتی ہے۔ استنبول  میں ۳۰۰۰ مساجد، ۱۲۳ فعال گرجاگھر اور ۲۰ فعال یہودی معابد  ہیں۔ اس کی گلیاں مغربی ملبوسات میں ملبوس لوگوں کے ساتھ ساتھ روایتی حجاب  اور لبادہ پوشوں سے بھری پڑی ہیں۔ یہ اسلام   سے اپنے مضبوط تعلق کے ساتھ ساتھ یورپی ثقافت  کے لئے اپنائیت اور قبولیت کا اعلان  کرتا ہے۔ 

 استنبول کے پرانے علاقے میں واقع مصر بازار۔
استنبول کی منفرد تاریخ:
استنبول میں موجود ہم آہنگی کو سمجھنے کے لیے اس کی تاریخ پہ نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ اسے پہلی مرتبہ ساتویں صدی  قبلِ مسیح میں یونانیوں نے بازَنطیئم (Byzantium) کے نام سے قائم کیا۔ چوتھی صدی عیسوی میں اسے رومی سلطنت میں شامل کر لیا گیا۔ قسطنطین (Constantine)  قیصرِ روم نے اسے اپنا دارلحکومت بنا لیا ۔ قسطنطین نے اِس کی تعمیرِ نو کے لیے نہایت وسیع پیمانے پہ تعمیری کاموں کے احکامات دیئےاور اس کا نام  قسطنطنیہ رکھا۔ یہ  پہلا رومی شہناہ تھا کہ  جس نے مسیحیٔت کو اپنایا۔ قسطنطنیہ اگلے ہزار سال تک مشرقی روم یا بازنطینی سلطنت کا حصہ رہا  یہاں تک کہ ؁۱۴۵۳ء میں عثمانی سلطان محمد الفاتح نے اسے فتح کر لیا۔اس موقع پہ اس کا نام استنبول رکھا گیا اور اِسے عثمانی سلطنت کا دارلحکومت بنا لیا گیا ۔ ۲۱ سالہ سلطان فاتح انتہائی دورراندیش فرمانروا تھا جس نے اس زمانے میں مختلف گروہوں کے مابین مذہبی آزادی کو یقینی بنایا۔ ناصرف یہ کہ اْس نے فرار ہوتے ہوئے عیسائیوں کو واپس بلایا، اْس نے مختلف یورپی ممالک میں ظلم وستم سے تنگ یہودیوں کو آباد  کرنے کا بھی اہتمام کیا۔ اْس نے ان گروہوں کے لئے معاشی و سیاسی مواقع کا حصول یقینی بنایا تا کہ یورپ سے تجارتی تعلقات قائم کئے جا سکیں۔ اِن اقدامات کے نتیجے میں تجارت کے علاوہ یورپی فنون و ثقافت کو بھی استنبول میں جگہ ملی۔سلطان فاتح نے مختلف تہذیبوں کو باہمی فہم و ادراک کا موقع دیا؛  اس فعل کے ثمرات زمانہ موجود میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ عثمانی دور میں استنبول   نے مغرب کو متاثر کرنے کا عمل  جاری  رکھا اور یورپ سے متاثر ہوا بھی ۔  یورپ انیسویں صدی تک مذہبی ستم گری سے زور آزما رہا مگر عثمانیوں نے پندرہویں صدی میں ہی ایک ایسی ہم آہنگ اور مستحکم کثیر مذہبی وثقافتی اقدار پہ مبنی معاشرہ کی بنیادرکھ دی تھی جس نے صدیوں سے مذہبی آزادی کو یقینی بنائے رکھا ہے۔


تصویر 3: آیا صوفیہ کو رومی و عثمانی، دونوں ادوار میں مذہبی طور پہ مرکزی حیثیت حاصل رہی۔ اب یہ ایک میوزیم کے طور پہ عام عوام کے لئے کھول دی گئی ہے۔

مشرق اور مغرب کا ملاپ:
اِس ثقافتی مرکب کی سب سے بڑی علامت غالباً     "آیا صوفیہ"    کی عمارت  ہے جو کہ چھٹی صدی عیسوی میں ایک کلیسا کے طور پہ تعمیر کی گئی تھی۔اِس عمارت کو دنیا کے سب سے بڑے کلیسا ہونے کا اعزاز حاصل رہا یہاں تک کہ قسطنطنیہ کی فتح کے موقع پر سلطان محمد الفاتح نے اِس کو شہر کی مرکزی  جامع مسجد میں تبدیل کروا دیا۔ یعنی عمارت کا مذہب تبدیل کر دیا گیا مگر  اس کے مرتبہ اور شان و شوکت کو برقرار رکھا گیا۔ ترکی کے جمہوری ریاست بننے کے بعد اس کو میوزیم بنا کے عام عوام کے لئے کھول دیا گیا۔ استنبول  میں ثقافتی مطابقت کا ایک اور نشان سلطان سلیمان (Suleman the magnificient)  کی دل پسند بیگم "     ہْرم سلطان" تھی۔ اس کا تعلق آج کے یوکرین کے علاقے  کے ایک عیسائی خاندان سے تھا۔  استنبول میں مختلف مساجد، مدارس اور حماموں کے علاوہ خواتین کے ایک خصوصی ہسپتال کی تعمیر کا سہرا اْسی کے سر ہے۔ وہ سلطان سلیمان کی خصوصی مشیر تھی ۔ اْسے اپنے زمانے کی سب سے با اَثر عورت کے طور پہ  جانا جاتا تھا۔  اس ثقافتی رنگارنگی کی آخری مثال کے طور پہ ترکی کے قومی مشروبات کو پیش کیا جا سکتا ہے۔  "آئران"     اور "راکی"  ، دونوں ہی کو ترکی میں قومی شربت مانا جاتا ہے۔ راکی شراب کی قسم کا ایک پھیکا مشروب ہے اور آئران  دہی کا ایک نمکین شربت ہے جو کہ ہمارے ہاں پنجاب میں موجود لسّی سے مشابہ ہے اور دونوں ہی عوام میں مقبول ہیں ۔ غرض مشرق اور مغرب دونوں استنبول میں ایک تصادم کی بجائے ایک دوسرے کی تائید میں بیک وقت موجود ہیں ۔

تصویر 4: آئران (دائیں) گرمی کے توڑ کے طور پہ پیش کی جاتی ہے جبکہ راکی (بائیں)  شراب کی ایک قسم ہے۔

روحانی طور پہ مسلمان:
استنبول میں سب سے پہلی چیز جو میرے مشاہدہ میں آئی وہ یہ تھی کہ حالیہ تاریخ نے شہر کو مکمل یورپی رنگ میں رنگ  دیا ہے۔ آمدورفت کے ہجوم میں کاروبار اور دفتروں کی طرف بھاگتی عوام کو دیکھ کہ  خالق و مخلوق کا  رشتہ کا  بظاہر غائب نظر آیا۔ مگر جوں جوں افطار کا وقت قریب آیا، توں توں ان کا مشرق سے بنیادی  رشتہ واضح ہوتا چلا گیا۔ سلطان احمد مسجد کے گرد تمام  جگہ لوگوں سے بھر گئی۔ یہ دوستوں یا خاندانوں کے چھوٹے چھوٹے گروہ تھے جو کہ افطار کا انتظار کر رہے تھے۔ یہاں ایک  سٹیج کی طرف میری نظر گئی جس کے گرد ایک ہجوم لگا ہوا تھا۔ یہاں مختلف خطیب اور موسیقار باری باری  رمضان المبارک  اور اسلامی تاریخ کے متعلق مختلف تقاریر اور گیت پیش کر رہے تھے۔ لوگ اس سے کافی محظوظ ہو رہے تھے اور تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ یہ پررونق تقریب رات گئے تک چلتی رہی یہاں تک کہ سحری کا وقت آن پہنچا۔ مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ اسی قسم کی تقاریب شہر کی باقی مشہور مساجد کے گرد بھی ہوتی ہیں۔ یہاں لوگ  لباس یا زبان کے تعصب سے ماورا ہو کہ  اپنے دین کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں اور اِس بہانےاِن کو  اسلام کے بارے میں جاننے کا موقع ملتا ہے۔
استنبول جس طرح بیک وقت فخر کے ساتھ اسلام کو پیش کرتا ہے  اور مذہبی تفاوت کی تائید کرتا ہے اس کی مثل نہیں ملتی۔ یہ امید کا پیام دیتا ہے کہ اگر انسان باہم ایک دوسرے کو سمجھ کا موقع دیں تو یقیناً ایک ہم آہنگ معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔


تصویر 5: مقامی لوگ سلطان احمد چوک پہ افطاری کا انتظار کرتے ہوئے۔

تصویر 6: رمضان المبارک کی خصوصی پرہجوم تقریب ساری رات جاری رہتی ہے۔ یہاں پہ اسلامی تاریخ کے ساتھ ساتھ رمضان کے خصوصی گیت بھی پیش کئے جاتے ہیں۔


Comments