Skip to main content

کراچی سے گوادر ۔ 2 - مکران، ہنگول اور کنڈ ملیر

  

مسلسل سفر کرتے ہوئے مجھے  بیس گھنٹے ہو چکے تھے۔ صرف  ایک دن پہلے میں جرمنی  کے  دس ڈگری  والے ٹھنڈے موسم سے لطف لے رہا تھا اور اب    پینتیس ڈگری میں  بلوچستان کے صحرا میں ایک بیاباں سڑک پہ  سفر کر رہا  تھا اور کوئی انت نظر نہیں آ رہا تھا۔  مگر چونکہ دوست ساتھ تھے  تو کچھ امید باقی تھی۔ حَب سے پٹرول  کے کچھ زائد کنستر بھی بھروا لئے تھے کیونکہ آگے اب پٹرول سات سو کلومیٹر بعد  گوادر میں ہی مل سکتا تھا۔ وہیں کچھ پیٹ کے ایندھن کا بھی بندوبست کیا یعنی  ایک جنرل سٹور سے بسکٹ، چپس اور  ٹھنڈی  بوتلیں غرض سب  اچھی صحت کی نشانیاں  لے لیں۔

"یار میں نے کہا تھا کہ Wavy   لے کر آنا"، علی کھانے کی چیزیں  پھولتے ہوئے بولا۔

"Wavy  نہیں تھے"، میں بولااور علی نے منہ بنا کہ کولا  کی چسکی لی ۔ مجھے پتہ لگ گیا کہ Wavy  کی یہ مانگ  آگے بھی ساتھ دے گی ہمارا۔


ہمارا اگلا سٹاپ بلوچستان کے زیرو پوائنٹ پہ چائے کے بہانے سے  ہوا۔ یہاں سے کوسٹل ہائی وے یعنی مکران کا علاقہ  شروع ہو جاتا ہے۔  باقی سب نے  تو چائے پی لی اور میں  ہمیشہ کی طرح  کوشش   کرتا  رہ گیا۔ چائے میرے لئے  بہت پیچیدہ   شربت ہے۔ عجیب عذاب ہےکہ گرم پیئو تو  زبان سے لے کہ معدے تک سب جلا دے، ٹھنڈی کرو تو بہتر ہے کسی پودے کو ڈال دو۔ چائے پینے کے لئے جو ٹھنڈے گرم کا  توازن  قائم کرنا پڑتا ہے وہ میرے بس کا نہیں سو بے جا  تکلیف سے بچنے کے لئے  میں ہمیشہ دودھ مانگ کہ شرمندہ ہونا  قبول کر لیتا ہوں۔ مگر ہر جگہ دودھ نہیں ملتا۔ یہاں حارث نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ اْس نے گرم چائے غٹا غٹ ایسے پی لی جیسے گرمیوں میں ٹھنڈی لسّی سو اپنی پیالی بھی میں نے ازرہِ عقیدت اْسے پیش کر دی۔ یہاں کچھ مقامی مکرانی بزرگ نظر آئے تو اْن سے علیک سلیک کی کوشش کی۔ میں سمجھ رہا تھا کہ سیاح سمجھ کر شائد کوئی عزت ملے گی  مگر انہوں نے منہ دوسری طرف گھما کر بےزاری کا اظہار کیا۔ میں شرمندگی چھپاتے ہوئے بولا۔
"چلیں بھائیو؟  لیٹ ہو رہے ہیں۔"

کوسٹل ہائی وے کہ دونوں جانب خشک صحرا ہے۔

زیرو پوائنٹ سے کوسٹل ہائی وے کے حسین نظارے شروع ہو جاتے ہیں یعنی  سامنے تاحدِ نگاہ ایک  سیدھی سڑک اور دونوں طرف خشک صحرا ۔  کہیں    کٹھے پٹھے   سوکھے  پہاڑ   تھے اور کہیں پھیلے ہوئے  خشک میدان جن میں صرف کیکر اور روکھی جھاڑیاں ہی اْگتی ہیں ۔ کہیں کہیں پانچ دس کچے مکانوں پہ مشتمل مقامی بستیاں بھی نظر آجاتیں۔ آج سے پہلے میرا تمام سفر شمالی علاقوں کا ہی رہا تھا۔ وہاں کے ہرے بھرے  پہاڑ اور ٹھنڈے پانی کے چشموں کے مقابلے میں یہاں کی "خشک  وحشت" نے مجھے کافی متوجہ کیا۔ موسم کی سختی اور رابطے کی کمی کی وجہ سے آبادی بے حد کم ہے ۔  لمبے سلسلوں تک    کوئی آبادی نظر نہیں آتی۔  مقامی آبادیاں   انتہائی غربت  کی حالت میں ہیں جس کا اندازہ ہمیں سڑک پہ کھڑے، خالی بوتلیں ہلاتے  بچے دیکھ کہ ہوا جن کے لئے شہر سے آتی گاڑیاں صاف  پانی کی امید تھیں۔ بعد میں ہمیں پتہ لگا کہ یہ علاقہ سال میں چند ہی بارشیں دیکھتا ہے۔ لوگ اپنے  موشیوں اور اس خشک زمین سے ہی کچھ اْگا کہ گزر بسر کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔  یہیں  سڑک کنارے  ایک مقام پہ جو مرے ہوئے گدھے کی لاش دیکھی ( ایسا منظر اِس سے پہلے  فلموں میں ہی دیکھا تھا) تو بےچین ہو کر بے اختیار  گاڑی میں نظر دوڑائی، ٹھنڈا  مِنرل واٹر  نظر آیا تو اطمینان تو  ہوا   ہی ساتھ میں  شیشے کے اْس پار زندگیوں  کا تضاد دیکھ  کر ندامت بھی  ہوئی۔


 ہنگول کا دیسی Grand Canyon

تقریباًاڑھائی گھنٹے کے لگاتار سفر کے بعد   سیدھی سادھی سڑک میں کچھ بل سا آگیا اور خشک پہاڑیوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا۔  پتا لگا کہ ہم   ہنگول نیشنل پارک  میں داخل  ہو چکے ہیں۔ یہ مکران  کے علاقے میں پہاڑی درّوں اور وادیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو کہ امریکہ کے Grand Canyon  سے بےحد مشابہ ہے۔زیادہ تر خشک مگر دریائےہنگو ل کے ارد گرد کا علاقہ سر سبز اور ہرا بھرا ہے۔  دو تین گھنٹے کا لگاتار سفر اور اوپر سے ٹھنڈے جوس اور کولا، ٹینکی خالی کرنے کی مانگ لگائی گئی۔ چونکہ ہم اپنے آپ کو پڑھا لکھا سمجھتے ہیں تو سڑک کنارے ایسی معیوب حرکت سے پرہیز کیا اور کنْڈ ملیر   پہنچ کہ بریک لگائی۔

یہ ایک پکنک پوائنٹ ہے جہاں  نیلگوں پانی  ، سفید ریت اور کراچی کے شورے کھلے عام پائے جاتے ہیں۔ سیاحوں کی بھیڑ تھی۔ ہمیں ایک کونے میں  اپنے مطلب کی جگہ نظر آئی تو اْس کی جانب لپکے۔پتہ لگا کہ  اس علاقہ میں لوگوں کو اپنی شرافت پہ اِس قدر یقین ہے کہ باتھ روموں میں کنڈی لگوانے کی زحمت نہیں کی گئی۔طے یہ پایا کہ ایک جائے اور دوسرا پہرا دے سو اِس طرح  ہم نے ایک ایک کر کے راحت پائی۔  اِسی لمحے ایک دس سال کا  بچہ آیا:

"تیس روپے!!!"

"کس بات کے؟"پتا ہونے کے باوجود ہم نے پوچھنا ضروری سمجھا۔

"باتھ روم استعمال کرنے کے صاحب۔"

"ایسے کیسے تیس روپے۔ پہلے بتانا چاہئے تھا ۔ اب تو ہو گیا۔" ہم بھی زرا  رعب میں آ گئے اور چلنے لگے۔

"صاحب۔۔ باتھ روم استعمال کیا ہے تو پیسے تو دےدو۔"  وہ پھر بولا۔ ہم نہ مانے مگر وہ اَڑا رہا۔ ہمارے نزدیک  وہ ہمیں بےوقوف سیاح سمجھ کے لوٹنا  چاہ رہا تھا۔  ارد گرد کے لوگ بھی متوجہ ہو نے لگے تو ہم  پڑھے لکھے ہونے کا ثبوت دیا :

"کہیں لکھا ہونا چاہئے اتنی ضروری بات۔"

"دیوار پہ لکھا ہے صاحب!!" وہ اطمینان سے بولا۔ ہمارا رعب تھوڑا بیٹھا اور پلٹ کے دیکھا تو واقعی مدھم سا سفید رنگ میں "30" لکھا تھا۔  پڑھے لکھے   " شریف"  لوگوں کیلئے لکھی ہوئی چیز کی اہمیت پتھر پہ لکیر کی طرح ہوتی ہے تو  ایک دوسرے کو اشارہ کیا اور بِلا آخر شعیب نے تیس روپئے نکال کر دیے اور ہم وہاں سے کھسکنے لگے۔

"ہر بندے کے تیس روپے  ہیں صاحب۔" اب کی بار وہ لڑکا قدرے رعب سے بولا۔ چونکہ  حقیقت میں پتھر پہ لکیر کھینچ کہ لکھا ہوا تھا اور ہم پڑھے لکھے  ہونے کے ساتھ قدرے معصوم بھی ہیں  اِس لیے تھوڑی نرم آواز میں بولے:
"دس روپے اور لے لو بھائی۔۔۔ کافی ہیں۔" وہ نہ مانا۔ ہم نے مزید تھوڑا  مِنت ترلہ ڈالا اور آخر میں پچاس روپے دے کہ جان چھڑائی۔



کنڈ ملیر ہنگول میں ایک پکنک پوائنٹ ہے۔ قریب ہونے کی وجہ سے کراچی سے بہت لوگ چھٹی کے دِن ادھر کا رخ کرتے ہیں۔ (source)
 کنڈملیر سے آگے بڑھے تو   اورماڑہ  تک چونکہ بیاباں ہی تھا اس لئے  راستے میں   سڑک کنارے ٹیلوں  میں پودوں کی خوب آبیاری کرتے گئے۔  کنڈملیر کی ٹک شاپ پہ بھی Wavy  نہیں مِلے۔

۔۔۔جاری ہے ۔۔۔۔

Comments