Skip to main content

کراچی سے گوادر ۔ 3 - جیونی اور گوادر

 کوسٹل ہائی وے پہ ڈوبتا ہوا سورج اور گاڑی کا گرد آلود شیشہ
"بھائی ۔۔ کیا سین ہے رات کا؟ سونے کی جگہ مِل جائے گی؟"   شام ہونے کو تھی اور منزل ابھی بھی ذرہ دور تھی۔  
"ہاں۔۔ جگہ تو ہے مگر جیونی میں۔"  علی جھنجھلا کہ بولا۔ وہ بھی یقیناً   گاڑی چلا چلا کہ تھک گیا تھا۔
جیونی گوادر سے آگے،  گھنٹے کے فاصلے پہ، ایک چھوٹا  سا شہر ہے جہاں  علی نے  کوئی رابطہ نکال لیا تھا۔  سات گھنٹے کا سفر کر چکے تھے ہم۔  بسکٹ اور  چِپس  سب ختم ہو چکے تھے اور  دھنّو کی بھی ایک دفعہ پیٹ پو جا ہو چکی تھی (دیکھئے تصویر)۔   گوادر میں داخل ہونے کی بجائے ہم ایران بارڈر کْلڈن کی ظرف بڑھ گئے تھے اور اب کوئی آدھے گھنٹے  میں جیونی پہنچنے کی امید تھی۔
ہائی وے علی اور شعیب گاڑی میں پٹرول ڈالتے ہوئے۔ علی گاڑی کو پیار سے " دھنو" بلاتا ہے۔
"کیا پروگرام ہے یار  جیونی میں؟" ، حارث نے معصومانہ امید سے سوال کیا۔  ہم سب نے اْسے گھورا۔
"موسیقی ہو گی۔۔۔ رقص ہو گا۔ ۔۔ انواع اقسام کے کھانے ہونگے"،  علی جل کے بولا۔
"ہیں؟ واقعی؟ " حارث کو یقین نہ آیا۔
"اَبے ۔۔۔ رہنے کو چھت مِل جائے بس۔"
جیونی   پہنچے تو  ہمارے میزبان علیم صاحب سے رابطہ ہوا۔  اْنہوں  نے رات گزارنے  کے لئے ایک کمرے  کا انتظام کر لیا تھا۔   وہاں پہنچ کے ہم نے  اپنا سامان سیدھا  کیا  اور علیم صاحب   سے تعارف ہوا۔ پہلے تو انہوں نے کچھ مشکوک نگاہوں سے سے ہمیں دیکھا مگر کچھ  گفتگو  کے بعد انہیں یقین ہو گیا  کہ ہما رے کوئی مذموم ارادے  نہیں ہیں۔  کچھ  دیر بعد  انہوں نے ر خصت لی ۔    زوروں کی بھوک لگی تھی مگر شہر سے کچھ ملنے کی توقع نہ تھی۔ ابھی یہی سوچ رہے تھے کہ  دستک ہوئی  ۔  ایک خوش شکل نوجون نے  پوچھا۔
"صاحب ۔۔۔ علیم صاحب کہہ گئے ہیں آپ سے کھانے کا پوچھ لوں۔" یہ سن کے  ہمارے تھکے ہوئے جسموں میں جان پڑھ گئی اور اپنے میزبان کو دعائیں دیں۔
کیا لا سکتے ہو بھائی فٹا فٹ؟"
"سبزی تیار ہے صاحب" یہ سن کہ ہم تھوڑا مرجھا گئے۔
"سبزی!!   صبح  سے حالتِ سفر میں ہیں دوست۔ " علی نے قسمت آزمائی۔  "کوئی گوشت وغیرہ ہو تو جان میں جان آئے۔"
"وہ بھی ہو جائے گا۔ علیم صاحب نے خاص خیال رکھنے کی تاکید کی ہے۔"     اور یوں کچھ ہی دیر بعد ہم چکن کڑاہی کھا رہے تھے  اور علیم صاحب کے گْن گا رہے تھے۔ 
اگلی صبح  علیم صاحب کے مشورے پہ ہم جیونی کے ساحل پہ گئے۔ اَس ساحل کو مقامی  لوگ Turtle Beach   کہتے ہیں۔  بہت ہی پر سکون اور خاموش ساحل ہے۔ دو تین  گھنٹے مزے سے نہائے۔ اگلی منزل گوادر شہر تھا سو  دوپہر کو  علیم صاحب کا شکریہ ادا کر کے گوادر کی طرف  بڑھے۔

 جیونی کے ساحل پہ بہت ہی پرسکون جگہ تھی۔Turtle Beach

جیونی  کوسٹل ہائی وے پہ ہمارا انتہائی مقام تھا اور اب ہمارا رْخ واپس کراچی کی طرف تھا۔  گھنٹے میں ہم گوادر  شہر داخل ہو رہے تھے۔  یوں تو گوادر دیکھنے میں  پنجاب کے کسی قصبے سے زیادہ  جدید نہیں ہے مگر مکران میں   اِسے وہی مقام حاصل  ہے جو   پنجاب میں لاہور کو۔  ایک   مکمل آباد شہر ہے۔ سڑکوں کا ایک جال موجود ہے جس پہ  فراٹے بھرتی ہوئی گاڑیوں  کا رش لگا ہوا تھا۔ معاشیت و  صنعت سے  سے بھر پور ہے جِس کی وجہ سے  ضرورت کی ہر شہ موجود ہے۔ نان بائی سے لے کے گاڑیوں کے مستری اور حجام سے لے کے بیکریاں سب موجود ہیں۔
اب تک تمام سفر ایک سیدھی سڑک پر ہوا تھا تو اِدھر یکدم دو تین راستے دیکھ کے بوکھلا گئے۔  ہم  Pearl Continental  ہوٹل جانا چاہ رہے تھے جو پورٹ  کے ساتھ  ایک پہاڑی پہ واقع ہے ۔    وہاں سے شہر کا بہت اچھا       منظر دیکھنے کو مل سکتا تھا۔  میں نے گْوگل  سے راستہ پوچھا  مگر  اْس کی ہدایت  میں  کچھ  تنگ گلیوں میں آ گئے۔ سب نے مجھے کچھ صلواتیں سنائیں۔ اب  علی نے گوگل سے پوچھا تو PC کے سامنے   تو پہنچ گئے  مگر سڑک بلاک تھی۔ اب کی بار میں نے  صلواتیں سنائیں اور ہنسا بھی۔ خیر کچھ گھوم گھما کے ہم PC  پہنچ گئے۔
 گوادر میں پورٹ ہونے کی وجہ سے شہر میں کافی معشیعت و ترقی دیکھنے کو ملی۔ (source) 
سنا تھا کہ یہاں شام کے وقت چائے کا علیحدہ مینو ہوتا تھا جو عام مینو سے قدرے سستا پڑتا ہے۔ یہاں ہمارے جیسے کفائت شعار  اچھی پیٹ پوجا کرنے کی امید میں  تھے مگر  ہائے  بدقسمتی کہ آدھا گھنٹہ پہلے ہی اْس کا ٹائم ختم ہوا تھا۔ پھر بھی، تھوڑا  اکڑ کے   اندر گئے   اور  جی کڑا کے عام مینو دیکھا  ۔    جیب کو دیکھا اور پھر ایک دوسرے   کودیکھا۔  مینو رکھ کے باہر  آئے اور گوادر پورٹ  کا نظارہ  کیا اور PC  سے نکل آئے ۔
شام ڈھل رہی تھی    ،  بھوک بھی زوروں کی لگی تھی  اور رات   گزارنے کے لئے کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔      پلان کے مطابق آج رات گوادر  میں کوئی ہوٹل ڈھونڈنا تھا اور اگلے دن پسنی جانا تھا جہاں  ایک اور رابطہ موجود تھا۔  پہلے تو  کھانے کی غرض سے  ایک ہو ٹل ڈھونڈا  اور چکن تکہ اور تلی ہوئی مچھلی آرڈر کی۔ سب ہی بہترین آیا مگر سب سے ممتاز شہ  ٹھنڈی کوکا کولا ٹھہری۔ چائے میں نہیں پیتا مگر  کولا کا میں دیوانہ ہوں اور جتنی ٹھنڈی ہو اتنا ہی بہتر۔  کھاتے کھاتے  گوادر شہر  پہ  بات ہوئی۔ ہم سب ہی گوادر کو ایک تفریحی  مقام سمجھ رہے تھے مگر یہاں کا رش   و رونق ہمیں نہ بھائی۔

ہوٹل سے گوادر کا نظارہ۔ PC
 "یار تو  ایک کام کر۔ تو پسنی والے دوست سے پوچھ ۔۔۔ اگر ہم ابھی آ جائیں تو۔۔۔"  میں نے علی سے کہا۔
"دس بج رہے ہیں ۔ اتنی رات کوسٹل ہائی وے پہ سفر کرنا ٹھیک نہیں۔ ۔۔ بے وقوفی ہو گی۔"
"تو پتہ تو کر۔ اس طرح وقت بچے گا سفر کا اور  کل پسنی شہر دیکھ لیں گے۔"  حارث نے بھی ہاں میں ہاں ملائی۔
علی  نے منہ بنایا مگر کال کر لی۔ پسنی میں ہمارے متوقع میزبان وہاب صاحب تھے جو کہ اگلے دن ہمارا انتظار کر رہے تھے۔    بہت ہی معقول شخص لگے مجھے  جب انہوں نے   فون پہ  نہ صرف   آج کے دن کے لئے  سونے کی جگہ کی تسلی کرائی بلکہ  کوسٹل ہائی وے کے بھی  محفوظ ہونے کا یقین دلایا۔ میرا اور حارث کا چہرہ  کھل اٹھا  اور میں نے کولا کی ایک چسکی لی۔ علی ابھی بھی رات کے سفر پہ قائل نہیں لگ رہا تھا۔ ذمہ دار تو علی پہلے ہی سے تھا مگر اب شادی کے بعد تو  وہ بے حد محتاط   رہتا ہے اور کوئی غیر ضروری خطرہ مول نہیں لیتا۔  ہم نے سوچا کہ جمہوریت کے اصول پہ ووٹنگ کر لیتے ہیں کہ ابھی سفر کیا جائے یا نہیں۔ میں اور حارث تو پہلے ہی  ابھی پسنی جانے کے حق میں تھے اور علی اِس کے خلاف تھا۔ علی  نے آخر میں شعیب سے پوچھا۔  وہ شاید  یہ اِس اْمید میں تھا کہ   پرانی دوستی کے ناطے شعیب اْس کا ساتھ دے گا۔  
"ابھی ہی چلتے ہیں۔۔۔ وقت بچے گا۔ کوسٹ گارڈز کی چیک پوسٹس کی وجہ سے  محفوظ ہے ہائی وے۔" شعیب بولا۔ "گاڑی میں چلا لیتا ہوں اگر تو تھک گیا ہے تو۔"
علی نے بے یقینی کے عالم میں شعیب کو دیکھا جیسے کہہ رہا ہو "دھوکہ باز!!!"۔ پھر گھڑی دیکھی اور یک لخت اٹھ کھڑا ہوا۔ ہم تینوں نے کن اکھیوں  سے اِک دوجے کو دیکھا۔
"گاڑی تو میں ہی چلاؤں گا۔ تم لوگ بِل وغیرہ دے کے باہر آجاؤ۔ میں گاڑی نکال رہا ہوں۔" علی نے قدرے سنجیدہ لہجے میں کہا اور تیز قدموں سے  ہوٹل سے باہر نکل گیا۔
شعیب اور حارث بِل دینے کو اٹھے۔ میں نے بچی ہوئی کولا کو حسرت سے دیکھا جسے میں چسکیاں لے لے کے پینے کا پروگرام بنائے بیٹھا تھا۔ دِل میں پیچ و تاب کھاتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ شکر ہے کہ کھانا ہم ختم کر چکے تھے۔

۔۔۔جاری ہے ۔۔۔۔

Comments