Skip to main content

کراچی سے گوادر ۔4 ۔ پسنی اور جزیرہِ استولہ

 پسنی کا مصروف پورٹ (source)
" رات کے ساڑھے  گیارہ بج چکے تھے اور  پسنی شہر آنے کا نام نہ لے رہا تھا۔ کوسٹل ہائی وے، جو دِن کے وقت  بھی کوئی بہت پْر رونق سڑک نہیں ہے، پہ ہو کا عالم تھا۔ ایک اکلوتی ہماری گاڑی کے علاوہ کوئی ذِی روح موجود نہیں تھی۔ سب خاموش تھے اور انتظار کر رہے تھے کہ  کے کچھ آبادی نظر آئے  تو جان میں جان آئے۔ اللہ بھلا کرے GPS  کا جس کی وجہ سے ہمیں گْم ہونے کا قطعی احساس نہ ہوا۔ قریباً پندرہ منٹ بعد کوئی عمارتوں  کے آثار نظر آئے تو ہوا میں تناؤ کم ہوا۔ ہم دِل ہی دِل میں خوش ہوئے کہ خیریت سے پہنچے۔ یکا یک سنسان سڑک پہ ایک فلیش لائٹ چمکی اور سیٹی کی کی آواز آئی ۔علی نے  گاڑی آہستہ کر لی ۔

 پسنی مکران کوسٹل ہائی وے پہ ایک مچھیروں کا شہر ہے۔
بھاری  مونچھوں والا ایک شخص سڑک کے بیچ  میں کھڑا  ، ٹارچ سے گاڑی روکنے کا اژارہ کر رہا تھا۔ گاڑی رْکی تو اْس نے علی کو باہر نکلنے کو کہا۔ ہم سب کے اوسان خطا ہو گئے اور سوچا کہ یہی ہے وہ لمحہ جس کے لئے والدین   اِس طرح  کی تفریح سے منع کرتے ہیں۔

"کیا بات ہے بھائی؟" علی نے معصومیت سے پوچھا۔

"چیک پوسٹ ہے صاحب۔ نام انٹری کرو لیں۔"  سخت بلوچی لہجے میں وہ شخص بولا۔ ہمیں یقین تو نہ آیا مگر کیا کر سکتے تھے۔ علی گاڑی سے اْتر کے سڑک کنارے  ایک ٹینٹ میں چلا گیا۔کچھ دیر بعد،  جب  تک وہ واپس آ کے بیٹھ نہیں گیا  سانس اٹکی رہی۔ آخر  کار گاڑی چلنا شروع ہو ئی۔  شہر میں داخِل ہونے کے بعد  اپنے میزبان وہاب صاحب سے رابطہ ہوااور بِل آخر گیسٹ ہاؤس پہنچ گئے۔

پسنی ایک  ساحلی شہر ہے اور اساسی طور پہ  یہ ایک مچھیروں کی بستی ہے۔ ساحل پہ بہت چہل پہل رہتی ہے۔ کہیں مچھیرے کشتیاں  مرمت  کر رہے ہیں  اور کہیں جال بْنا جا رہا ہے۔ رنگ برنگی، نئی پرانی ہر قسم کی کشتیاں نظر آتی ہیں۔ لوگ ملنسار اور مہمان نواز ہیں مگر معاشی طور پہ بہت پیچھے ہیں۔ یہاں پاکستان نیوی کا ایک بڑا کیمپ موجود ہے  جِس کے ایک گیسٹ ہاؤس میں ہمارے ٹھہرنے کا انتظام تھا۔



اگلے دِن پسنی کے قریب ہی ایک جزیرے "استولہ " پہ جانے کا ارادہ تھا ۔ سنا تھا کہ کافی سر سبز اور خوبصورت ہے بلکہ کسی نے تو یہ کہا کہ مالدیپ کے جزیروں کی مانند ہے۔ صبح ناشتے کی میز پہ کچھ لوگوں سے مْلاقات  ہوئی جو کراچی سے تفریح کی غرض  سے آئے ہوئے تھے۔ پتا لگا کہ وہ ایک دِن پہلے ہی استولہ ہی گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ہے تو خوبصورت  مگر سفر کافی  تھکا دینے والا ہو گا اور  کشتی کئی مقامات میں بری طرح ڈولتی ہے۔ ہم رکنے والے تو نہ تھے سو نکل پڑے۔

گاڑی  ساحل پہ نیوی کی ہی ایک چیک پوسٹ  پہ کھڑی ۔  یہاں سلیم صاحب سے  ملاقات ہوئی جِن  کاتعلق پنجاب سے تھا اور قریباً دو سال سے پسنی میں تعنیات تھے۔  اْنہوں نے نہایت شفقت سے ہمارے لیے استولہ جانے  کیلئے ایک کشتی  ڈھونڈنے میں مدد کی ۔ پہلے تو کشتی کے  مالک نے تیس ہزار روپے مانگے۔   غالباً وہ یہ سمجھے کہ ہم کشتی پہ کراچی جانا  چاہتے ہیں۔  انہوں نے یقین دلایا کہ استولہ جانے کا اتنا ہی معاوضہ ہے۔  ہم نے کچھ منت سماجت کی اور کچھ ترلے کے بعد دس ہزار میں اْن بھائی کو منا لیا۔ ہماری کشتی کے کپتان کا نام اسلم  تھا ،  وہ پسنی کے ہی مقامی تھے اور ایک عدد تیز مگر قدرے  چھوٹی موٹر بوٹ کے مالک تھے۔ نیوی والے سلیم صاحب نے کشتی دیکھ کر کہا۔

"لگتی تو تیز ہے مگر اچھلے گی۔" اْن کی آواز میں  تنبیہہ مضمر تھی۔  باقی نیوی کے لوگوں نے بھی سر ہلایا۔
"پہنچا دے گی سر؟" ہم نے سوال کیا۔
"پہنچا تو دے گی۔ جوان لوگ ہیں آپ۔ کوئی پریشانی نہیں۔" سلیم صاحب نے معنی خیز  مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔
"جب اوکھلی میں دیا سر تو پھر موسلوں سے کیا ڈر۔" ہم نے ایک دوسرے کو تسلی دی۔

 استولہ جاتے ہوئے ہمارے کپتان سلیم صاحب اور حارث

گرمی تھوڑی بڑھ گئی تھی مگر کشتی  چلی تو سمندر کی ٹھنڈی ہوا اور پانی کی ہلکی ہلکی پھواروں نے تجربے  کو بہت  خوشگوار بنا دیا۔ کھلے سمندر میں کشتی لہروں پہ  کچھ ڈولی  تو ضرور مگر   سفر ٹھیک ہی رہا۔  تقریباً  ڈیڑھ گھنٹے  بعد جزیرے کا خاکہ ظاہر ہونا شروع ہوا تو جوش مزید بڑھ گیا۔

کچھ دیر بعد کشتی ساحل پہ لگا دی۔ جزیرے پہ  نظر دوڑائی تو  ریت ،  خشک پہاڑ اور  ٹیلے نظر آئے۔ پہلا  تاثر کچھ بہت اچھا نہیں تھا۔    ساحل پہ مچھیروں نے ایک عارضی سی بستی بنا رکھی تھی۔ پتا لگا کہ یہاں کیکڑوں کا شکار کیا جاتا ہے جِن کی مقامی منڈی میں کافی مانگ ہے۔ ہمارے کپتان اسلم صاحب ہمیں  جزیرے  کے ایک قدرے خوبصورت حصے میں لے گئے۔ یہاں ایک سایہ دار غار تھی جہاں ہم نے لنچ کے نام پہ چپس اور بسکٹ کھائے اور اسلم صاحب کا حال احوال پوچھا۔   وہ اسی طرح سیاحوں کے لیے کشتی چلا کے گزارا  کرتے ہیں اور بال بچے والے ہیں۔ خود پڑھ لکھ نہیں سکتے مگر تینوں بچے سکول جاتے ہیں۔ جزیرے پہ مزید کچھ دیکھنے کو نہ تھا اور ہم کچھ مایوس مایوس واپس کشتی کی طرف لوٹے۔

 استولہ کی پہلی جھلک


جزیرہ کی ایک غار میں ہم نے لنچ کیا


استولہ کے ساحل پہ مچھیرے کیکڑوں کا شکار کرتے ہیں
  ساحل پہ کچھ مزید سیاح بھی ملے  جو بہت  خوش مزاج  لگ رہے تھے۔

"کراچی سے آئے ہیں بھائی ویک اینڈ منانے ۔  بہت خوبصورت  جگہ ہے یہ۔ بہت تفریح آرہی ہے۔" ایک سیاح کراچی کے مخصوص لہجے میں بولے۔

"رات ٹھہریں گے ادھر ہی ۔ ساحل پہ کیمپ لگائیں گے۔"   انہوں نے ہمیں مطلع کیا ۔ مجھے حیرت ہوئی۔  اتنا بھی  خوبصورت  نہیں تھا  یہ  جزیرہ جتنی تفریح اِن لوگوں کو آرہی تھی۔  خیر  انہیں خیر آباد کہہ کے ہم اپنی کشتی میں سوار ہوئے۔   کچھ دیر بعد ایک قہقہے کی آواز آئی   ،  ہم نے پیچھے مڑ کے دیکھا  تو اْن کی کی خوشی کا راز کچھ کھْلا۔ موصوف ایک مخصوص مشروب کی بوتل بہت محبت سے ہاتھ میں لیے  ،ساحل پہ لیٹے،  تصویر کچھوا رہے تھے۔

 استولہ کے مچھیرے

استولہ سے پسنی کی طرف واپسی کاسفر  شروع تو بہت  ٹھیک ہوا۔ کھلے   سمندر میں پہنچے تو ایک  دم ایک جھٹکا لگا۔ کشتی ایک لحظہ اچھلی اور دھڑام  سے پانی  سے ٹکرائی۔  ہم  نے کمر سہلاتے ہوئے  کپتان کی  طرف دیکھا ۔ وہ  بولا ۔

" ہوا الٹ ہے اب  صاحب۔۔ کچھ پکڑ لیں  سہارے کیلئے اور  سنبھل کے بیٹھیں ذرا ۔" کپتان   صاحب نے دانت نکالے۔
آتے وقت   ہوا کا رخ ہمارے موافق تھا تو کشتی   بہت آرام دہ   انداز میں چلی تھی۔  اب  ہم ہوا  اور لہروں کے مخالف  رخ میں جا رہے تھے۔    کچھ ہی دیر بعد جب ہم کھلے سمندر میں  پہنچے  تو جھٹکوں کا ایک  لا متناہی سلسلہ شروع ہو گیا ۔ اور ہر جھٹکے  کے ساتھ  تشریف کی پریشانی میں اضافہ  بڑھتا چلا گیا۔  کچھ دیر تو میں نے کوشش کی  کہ   کہ جھٹکوں کا خیال رکھوں تا کہ نقصان تھوڑا کم ہو مگر تقریباً آدھے گھنٹے بعد  ہمت ہار کے کشتی کے  فرش پہ پڑا تھا۔  جھٹکے لگے جا رہے تھے  مگر مدافعت کی ہمت نہ تھی۔ تشریف اور کمر   بے حد اضطراب کی حالت میں تھے۔  تقریباً ڈھائی گھنٹہ یہ مشق چلی۔ ہوا کا رخ کشتی رانی میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

واپس پسنی میں کشتی سے اترے تو انگ انگ دْکھ رہا تھا۔ نیوی والے سلیم صاحب سے مالشیئے  یا مساج کی فرمائیش کی، نہوں نے مسکراتے ہوئے  صرف چائے پیش کی۔ ہم نے چائے پی، اْن کی باتوں سے لطف اندوز ہوئے اور پھر شکریہ ادا کر کے واپس گیسٹ ہاؤس آ گئے۔

  
۔۔۔جاری ہے ۔۔۔۔

Comments