Skip to main content

کراچی سے گوادر ۔ 5 ۔ ہنگلاج ماتا کا مندر

اورماڑہ کا ایک خوبصورت نظارہ (source)

پسنی میں ایک دِن  گزار کے اگلے  روز ہم نے روانگی کا قصد کیا۔  صبح ناشتہ کر کے گاڑی میں پٹرول بھرا۔ یہاں پہ جو پٹرول ملتا تھا وہ فلٹر کیا گیا نہیں تھا اور علی کے بقول انجن کے لیے بے حد نقصان دہ  ہو سکتا تھا مگر اِس کے سوا کوئی چارہ بھی نہ تھا۔  سامان وغیرہ رکھ کے ہم نے واپسی کا سفر شروع کیا۔

پہلے اورماڑہ آیا جہاں کی نیوی بیس بےحد خوبصورت  ہے۔ ہم نے سوچا کہ چیک پوسٹ پہ قسمت لڑاتے ہیں، شائد اندر جانے دیں۔  گیٹ پہ پتا لگا کہ اندر ۲۳ مارچ کی  تقریبات جاری ہیں ۔ اْس ہی سلسلے میں  مشہور گلوکار شہزاد رائے   کا شو بھی ہے تو غیر متعلقہ افراد کو بالکل اجازت نہیں مِل سکتی۔ واپسی پہ کنڈ ملیر سے ذرہ پہلے "Princess of Hope" آئی ۔ یہ ایک مٹی کا قدرتی مجسمہ ہے جو ایک عورت کی مانند لگتا ہے۔ یہاں کراچی سے آئیں  ہوئی کچھ شہزادیاں بھی نظر آئیں جو تصویریں کھچوا رہیں تھی۔ یہاں احساس ہوا  کہ  ہاں  ۔۔۔ واپس تہذیب میں آ گئے ہیں۔


Princess of Hope


ہمیں کسی نے بتایا تھا کہ کنڈ ملیر کے ساتھ ہی ایک جگہ "نانی کا مندر"  دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ ہندوؤں کا ایک قدیم  مندر ہے۔ کنڈ ملیر سے تھوڑا آگے ایک سڑک بائیں طرف مڑ رہی تھی۔ ہم نے گاڑی موڑی تو سامنے ایک اونچی محراب پہ "ہنگول نیشنل پارک" کے الفاظ نظر آئے۔ یہاں ایک سنتری صاحب نے رْکنے کا اشارہ کیا۔ بلوچستان کی چیک پوسٹس سے ہم تنگ آچکے تھے۔

"کدھر صاحب؟" سنتری نے پوچھا۔

"سنا ہے کوئی مندر ہے ادھر ۔ ۔۔ وہی دیکھنے کا ارادہ ہے۔"

"دو سو روپے انٹری ہے صاحب۔" سنتری نے دانت نکالتے ہوئے کہا۔ ہم نے کچھ پس و پیش کی اور اْنہیں سو روپے میں منا لیا۔  کبھی کبھی میں سوچتا  ہوں  کہ پاکستان میں اگر  یہ بھاؤ تاؤ کا کلچر ختم ہو جا ئے تو سب کتنا آسان ہو جائے مگر پھر اِن چھوٹی موٹی بحثوں سے جو انسانی تعلق بنتا ہے اْس سے بھی ہم محروم ہو جائیں گے۔ 

آگے بڑھے تو پانچ منٹ میں  ماحول یکسر بدل گیا اور ہم نے اپنے آپ کو ایک سر سبز پہاڑی وادی  میں پایا۔    ہنگول کا علاقہ بنیادی طور پہ   پہاڑیوں اور وادیوں کا ایک سلسلہ ہے جس کے بیچ و بیچ  دریا ئے ہنگول بہتا ہے۔ اس ہی دریا کی بدولت یہ علاقہ  قدرے ہرا بھرا  رہتا ہے۔     اْس ایک ہی سڑک پہ چلتے چلتے ہم ایک گیٹ تک پہنچے جہاں مزید کچھ  سنتری  نظر آئے۔  اْس گیٹ پہ بڑے بڑے جلی  حروف میں لکھا تھا "ہنگلاج ماتا کا مندر"۔  یہاں پتہ لگا کہ کِسی سالانہ تہوار  کی وجہ سے غیر ہندوؤں کا داخلہ ممنوع ہے۔ وجہ اس کی یہ بتائی گئی  کہ لوگ عبادت گاہ کے تقدس کا خیال نہیں کرتے اور تہوار کی تیاریوں میں دخل اندازی کرتے ہیں۔ یہاں بھی کچھ وقت منت سماجت میں گزارا اور بلا آخر  خاموشی سے مندر دیکھنے اور تصاویر نہ اتارنے کا  یقین دلانے پہ ہمیں اندر جانے دیا گیا۔         


ہنگول نیشنل پارک کے سر سبز درّے- (source)

اندر داخل ہوئے تو ہم نے اپنے آپ  کو  ایک چھوٹی سی بستی میں پایا جِس  کے آخری سِرے پہ  مندر کا دروازہ تھا۔ اِس بستی میں تہوار کے دنوں میں سندھ اور باہر سے آئے یاتریوں کو ٹھہرانے کا بندوبست ہوتا ہے۔ مندر کے اندر بھی کچھ دیر پیدل چلنا پڑا پھر جا کہ عبادت گاہ تک پہنچے۔ یہاں پنڈت صاحب سے ملاقات ہوئی اور اْن کے بیٹے نے نہائیت شفقت سے ہمیں مندر کی تاریخ کے بارے میں بتایا۔ اِس کے بعد پنڈت صاحب جو کہ ٹانگ میں سوجن کے باعث چلنے سے قاسر تھے ، نے  ہمیں مذہبی رواداری  پہ ایک چھوٹا سا لیکچر دیا۔ اِسی دوران انہوں  نے  کچھ چھوکروں کو ڈانٹ بھی پلائی جو منع کئے جانے کے باوجود تصاویر اْتارے جا رہے تھے۔

ہنگلاج ماتا کا مندر۔ (source)

مندر سے نکلے تو علی نے ڈرائیونگ شعیب کے حوالے کی اور خود پچھلی سیٹ پہ چلا گیا  کہ تھوڑا آرام کر لے گا۔

"پانی ہے؟  کہ ختم ہو گیا؟"  کچھ ہی دیر بعد علی کی آواز آئی۔

"میرے پاس تو نہیں ہے۔"  میں بولا۔

"مِل گئی" علی نے سیٹ کے  نیچے سے ایک بوتل برامد کر لی اور غٹا غٹ پینے لگا۔

"گاڑی روک!!!" یکلخت علی چیخا اور شعیب  کے کندھے پہ زور سے ہاتھ مارا۔

"ارے۔۔۔ کیا ہوا؟"

"گاڑی روک!!!" شعیب نے فٹافٹ گاڑی سائیڈ پہ لگائی۔ علی فوراً گاڑی سے باہر نکلا اور سڑک کے کنارے تھوکنے لگا اور ہوا میں گالیاں دینے لگا۔

"پٹرول پی لیا" کچھ لمحوں بعد وہ ہلکی سی آواز میں بولا۔

"پٹرول کی بوتل کس نے اندر رکھ دی تھی؟ اِسکو تو ڈگی میں ہونا چاہیئے تھا" حارث بولا۔  پٹرول کے سخت ذائقے  سے علی کی  آنکھیں لال اور گلا خشک ہو گیا تھا۔

"اوہو۔۔ وہ تو شائد میں نے غلطی سی ۔۔ صبح پٹرول بھرتے ۔۔ ہوئے۔۔ "  میں نے بولنا شروع کیا تو علی نے قاتلانہ نظروں سے مجھے دیکھا۔ "غلطی سے۔۔" میں نے اضافہ کیا اور خاموش ہو گیا۔

"عمادے!! تجھے اللہ پوچھے" علی اب رونے کے قریب تھا۔ ہر سانس کے ساتھ پٹرول کا ذائقہ اْسے محسوس ہو رہا تھا۔

باقی  پورا سفر علی کو بدبودار ڈکاریں آتی رہیں  مگر ابھی کراچی پہنچنے سے پہلے کچھ اور مصیبتیں بھی سہنی تھی ہمیں۔ کچھ ہی دیر بعد گاڑی کو دو جھٹکے لگے۔ ہم نے سوالیہ نظروں سے شعیب کو دیکھا۔

"لگتا ہے گندے پٹرول کا کمال ہے۔ کچرا آ گیا ہو گا" وہ بولا۔ تقریباً پندرہ منٹ تک تو گاڑی ٹھیک چلی مگر پھر ہم نے محسوس کیا کہ گاڑی کی رفتار میں کوئی مسٔلہ ہے۔

"گندہ پٹرول!!! انجن ریس نہیں پکڑ رہا" علی بولا۔ لڑکوں نے گاڑی روک کے انجن کا  کچھ معائنہ کی کوشش کی مگر سر ہلاتے ہوئے یہی نتیجہ نکالا۔ "کراچی میں ہی کوئی مستری صحیح کر سکتا ہے۔ ابھی تو بس دعا کرو کے کچھ نہ کچھ چلتی رہے۔ یہاں رک گئے تو  پھر اِس سنسان علاقے میں پھنس جائیں گے۔"

 یوں ہم نے دعاؤں میں رفتار پکڑ لی مگر گاڑی کی رفتار آہستہ  ہوتی گئی حتٰی کہ یہ حالت ہو گئی کہ موٹر سائیکلیں اور مال بردار ٹرک سب ہم سے آگے نکلے جا رہے تھے۔ علی کو اپنی گاڑی سے بہت لگاؤ ہے اور جوں جوں رفتار آہستہ ہوتی گئی ، اْس کی پیشانی پہ فکر کی لکیریں بڑھتی گئیں اور وہ  خاموش ہوتا گیا۔  آخری گھنٹے کا سفر ہم نے تقریباً  تین گھنٹے میں طے کیا ۔ یہی سوچ رہے تھے کہ گاڑی چلتی رہے بس۔  آخر کار کراچی میں داخل ہوئے تو سْکھ کا سانس لیا اور خدا کا شکر ادا کیا۔

۔۔ختم شْد ۔۔

Comments