 |
| سَرائیوو |
جہاز اترنے لگا تو تھکے ہوئے جسم میں تھوڑا جوش پیدا ہوا۔
اخیرکار میں بوسنیا پہنچ گیا تھا۔ رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ آج کا دِن
بے حد تھکا دینے والا گزرا تھا۔ شروع میں ایک سائیکل کا حادثہ ہوا ، جس کی
وجہ سے گھْٹنا ابھی تک درد کر رہا
تھا ۔ پھر ائیرپورٹ پہ رش کی وجہ سے جہاز بالکل چھوٹ ہی گیا تھا۔ راستے میں گیارہ گھنٹے کا کروایشیا میں انتظار تھا تو
تھوڑی زگریب کی بھی سڑکیں ناپ لیں۔ اب
بلآخر دو جہاز تبدیل کر کے میں بوسنیا کے دارلحکومت سَرائیوو (Sarajevo) پہنچ گیا تھا۔ ٹھنڈ میں یہ شہر میونخ کی
ضد کر رہا تھا یعنی سانس بھاپ اُڑا رہی
تھی اور کان سُن ہو رہے تھے۔ انٹرنیٹ پہ
مجھے ایک مقامی لڑکا نیجاد مِل گیا تھا جِس نے میری میزبانی کرنے کی حامی بھر ی
تھی۔ نیجاد کا گھر شہر سے تھوڑا باہر تھا اور ائیر پورٹ سے
صرف پانچ منٹ دور۔ دو کمروں کا جدید فلیٹ تھا جہاں مجھے بیڈ کے نام پہ ایک صوفہ
مِلا ۔ بہت ہی پُراخلاق لڑکا تھا اور
میرے تین دِن کے قیام کے دوران ہمارے درمیان مذہب، سیاست، تاریخ، ٹیکنالوجی
غرض ہر موضوع پہ کافی گپ شپ لگی۔
اِس شہر میں میری بنیادی دلچسپی ۱۹۹۰ کی
دہائی میں ہونے والی جنگ تھی ۔ بوسنیا نے ۱۹۹۲ء میں
یوگوسلاویا سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ اِس موقع پہ یہاں
آباد سرب (Serb) قوم نے علیحد گی ماننے سے انکار کر دیا اور حکومت پہ چڑھائی کر
دی جس کے نتیجے میں ایک چار سال لمبی
جنگ ہوئی تھی۔ اِس جنگ کے دوران سَرا ئیوو شہر محاصرے میں رہا تھا۔ شہر کو سرب فوج کے بندوقچیوں نے گھیرے میں
لے لیا تھا اور یہ محاصرہ تین لمبے سال جاری رہا تھا۔ چونکہ یہ واقعہ ماضیِ قریب میں ہوا تھا تو میں دیکھنا چاہتا تھا کی
اب شہر اور اِس کے لوگوں کے کیا احوال ہیں۔
 |
| سَرائیوو کے محاصرے کا نقشہ ۔ |
شہر چاروں طرف سے پہاڑیوں میں گھِرا ہوا ہے جسے دیکھ کہ
مجھے اندازہ ہو گیا کہ شہر کا محاصرہ کرنا قدرے آسان ہے۔ ہوائی اڈہ
قدرے باہر ہے تو محاصرے سے بچا رہا تھا۔
ہوائی اڈے کے ساتھ ہی ایک سرنگ ہے جو کہ جنگ کے دوران کھودی گئی تھی ۔ اب یہاں ایک میوزیم ہے جو Tunnel of Hope کے نام سے مشہور ہے۔ محاصرے کے دوران جب اشیائے خورونوش بھی ختم ہو
گئی تھیں تو اِس آٹھ سو میٹر سرنگ نے شہریوں کی امید زندہ رکھی تھی۔ پہلے
دِن میں نے یہی دیکھی ۔ بیشتر سرنگ تو اب ڈھا دی گئی ہے مگر دیکھنے
کے لیے کچھ حصہ ابھی بھی باقی ہے۔
اِس کے ساتھ میوزیم میں جنگ کے واقعات اور
محاصرے کے دنوں کی بہت سی چیزیں نمائیش کے لیئے موجود ہیں۔
 |
| سَرا ئیوو میں یہ سرنگ محاصرے کے دوران لوگوں کے لیے زندگی کی ضمانت تھی - Tunnel of Hope |
اِس کےبعد میں نے قریبی ٹرام سٹیشن
ڈھونڈا اور شہر کے مرکز میں پہنچ گیا۔ سَرا ئیوو کی ٹرامیں چلتی ہیں
اور بس اس پہ راضی ہیں۔ اِس کے علاوہ مرمت
یا صفائی
ستھرائی جیسے نخرے نہیں اٹھاتیں۔ سیدھی تو چلتی ہی ہیں علاوہ ازیں دائیں
بائیں بھی ڈولتی جاتی ہیں تا کہ ٹکٹ کے پیسے اچھی طرح پورے ہو جائیں۔ اچھی بات
یہ ہے کہ ہر پانچ منٹ میں نئی ٹرام آ جاتی ہے اور اِن کا ٹریک کم از کم ہر سیاحتی
مقام تک ضرور جاتا ہے۔ شہر کے درمیان
دریاے مِلیاتسکا بہتا ہے۔ اِس دریا کے اوپر بنے درجن پُلوں
میں سے ایک وہ مشہور پُل بھی ہے
جہاں ہنگری کے شہزادے فرانز کو
۱۹۱۴ ء میں گولی مار کے ہلاک کر
دیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ا ِس ہی واقعے کے نتیجے میں پہلی جنگِ عظیم شروع ہوئی تھی۔
 |
| ٹرام پہ انسان شہر کی ہر قابلِ ذِکر مقام تک جا سکتا ہے |
سرب فوج نے محاصرے کے شروع ہی
میں پانی اور بجلی کے رابطے کاٹ دئیے گئے
تھے۔ کچھ عرصے بعد ہی شہریوں کے حالات
ابتر ہوچکے تھے۔ صاف پانی بھی مشکل سے
ملتا تھا۔ آہستہ آہستہ کھانے پینے کی
اشیاء بھی ختم ہوگئیں مگر بوسنیا کی بچی
کچھی فوج نے شہر سربیوں کے حوالے نہیں
کیا۔ حکومت پہ دباؤ ڈالنے کے لئے سرب بندوقچیوں
نے راہ چلتے نہتے شہریوں تک کو
مارنا شروع کر دیا تھا۔ مِلیاتسکا کے
کنارے چلتے چلتے دیکھا کہ ہر پُرانی عمارت پہ گولیوں کے نشان اب بھی موجود ہیں۔
چلتے چلتے سَرا ئیوو کے گلاب (Sarajevo Roses) بھی نظر آئے۔
شہر کے فٹ پاتھ پہ لال رنگ کے یہ نشان محاصرے کے دوران ہوئی اموات کی
یادگاریں ہیں۔ اِس جگہ پہ کھڑے ہو کے
اِنسان کو شہریوں کی بے بسی کا کچھ حد تک اندازہ ہوتا ہے۔ لوگ روٹی پانی اور دوسری
ضروریات کے لیے گھر سے نکلتے تھے اور واپس
آنے کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی تھی۔
 |
| عمارتوں پہ گولیوں کا نشان آج بھی موجود ہیں |
 |
| سَرائیوو کے گلاب محاصرے کے دنوں میں ہوئی اموات کی نشانی ہیں |
بوسنیا بہت عرصہ عثمانی خلافت کے زیرِاطاعت رہا۔ اِس ہی
وجہ سے یہاں کی بیشتر آبادی آج مسلمان ہے۔
شہر کے وسط میں عثمانی طرز کی بے تحاشہ عمارتیں موجود ہیں جِن میں مساجد ،
مدارس ، صوفی خانقاہیں ، ایک ڈھکا
ہوا بازار اور ایک مینار شامل ہے۔ اِس مینار پہ لگی گھڑی چاند کا وقت دِکھاتی ہے یعنی نیا دِن دوپہر بارہ
بجے شروع ہوتا ہے۔
 |
| مرکز میں موجود عثمانی زمانے کا کلاک ٹاور |
یہاں میرے میزبان نیجاد نے مجھے
کافی کی دعوت دی اور مقامی ثقافت کے بارے میں بتایا۔ پھر ہم نے شہر کی ایک بڑی مسجد میں مغرب کی نماز ادا کی۔ یہ مسجد شہر کے ایک بہت مشہور عثمانی گورنر غازی خسرو بیگ نے بنوائی تھی۔ اُس دور کی ہوئی
ترقی کے باعث خسرو بیگ کو شہر کا مسیحا مانا جاتا ہے ۔ خسرو
بیگ مسجد کے مینار پہ مؤذن آج بھی بغیر کسی لاؤڈ اسپیکر کے اذان دیتا ہے۔ بوسنیا
میں رومی، عثمانی اور پھر آسٹریا - ہنگری کے اثر کی
وجہ سے ثقافتوں اور مذاہب کا ایک خوبصورت امتزاج موجود ہے۔
مذہبی آزادی موجود ہے اور لوگوں میں تعصب
نظر نہیں آتا۔ تینوں ابراہیمی مذاہب کے پیروکار فخر سے اِس شہر کو اپنا گھر سمجھتے
ہیں۔ قدامت پسندی کہیں نظر نہیں آئی۔ نیجاد نے مجھے بتایا کہ یوگوسلاویہ میں کمیونزم کی وجہ سے لوگ بہت عرصہ مذہب سے دور
رہے مگر آج کے نوجوان مسلمان دین کو سمجھنا چاہتے ہیں اور باقاعدہ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
 |
| سَرائیوو میں موجود اِس یہودی عبادت گاہ کا نام اشکنا زی کنیسہ ہے۔ |
 |
| سَرائیوو کے چرچ کا ایک منظر |
دوسرے دِن میں شہر سے ملحقہ ایک
پہاڑی تریبَوِچ کی سیر کو گیا۔ تنگ گلیوں سے ہوتا ہوا پہاڑی کا راستہ
ڈھونڈا۔ پہاڑ کی چوٹی پہ برف چمک رہی تھی۔ ۱۹۸۴ ء میں سَرائیوو میں اولمپک کھیل منعقد ہوئے تھے۔ اولمپکس کے
دوران اِس پہاڑ کے ایک حصہ پہ "بوب
سلیج" کا ٹریک بنایا گیا تھا۔ یہ برف گاڑیوں کا ایک کھیل ہے اور فریقین
کے درمیان رفتار کی بنیاد پہ ہار
جیت کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اب یہاں صرف
کھنڈر ہیں۔ ٹوٹے پھوٹے ٹریک کے ارد گرد اب
گھاس اُگ چُکی ہے اور لوگوں نے
رنگوں کے ذریعے کچھ خوبصورتی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ جنگ کے بعد حکام کو اِس کی مرمت یا بحالی کی فرصت نہیں ملی۔ دُکھ ہوا یہ سوچ کہ کبھی یہ جگہ
دنیا کے مشہور ترین کھیلوں کا حصہ تھی۔ انہیں اولمپکس کے لیے تعمیر شدہ
سٹیڈیم اب ایک قبرستان ہے۔محاصرے کے دوران
جب فوجیوں نے قبرستانوں پہ بھی
گولہ باری شروع کر دی تھا تو لوگوں نے اِس
سٹیڈیم میں ہی مُردے دفنانے شروع کر دئیے تھے۔
سرب فوجی بے حد بے رحمی سے شہر پہ
گولیاں چلاتے تھے۔ فروری ۱۹۹۴ ء میں اقوامِ متحدہ کی طرف سے
کچھ فوجی مداخلت ہوئی جِس کے نتیجے میں سَرا ئیوو نے
محاصرے کے بائیس مہینے بعد پہلا
دِن ایسا دیکھا جب کوئی شہر میں کوئی
ہلاکت نہ ہوئی۔ کھنڈر دیکھ کر میں نے دوبارہ پہاڑی کی طرف چلنا شروع کیا۔ کوئی گھنٹہ ایک
مزید چلنے کے بعد ایک موڑ مڑ کے سامنے دیکھا تو اوسان خطا ہو گئے۔ تریبوچ پہاڑی وادی کے بالکل دوسری طرف نظر آئی۔ میں
غلط ٹریک پر چل رہا تھا۔ وہاں سے
پھر پہاڑی پہ جانے کی خواہش دِل میں ہی لیے واپس نیچے آ گیا۔
 |
| تریبوِچ پہاڑی کے راستے سے شہر کا ایک منظر |
 |
| بوب سلیج کا ویران ٹریک |
 |
| بوب سلیج کا ویران ٹریک |
آج بوسنیا کی ایک لذیذ ڈِش
"چیواب "کھانے کا اِرادہ تھا۔ یہ ایک نرم نان ہوتا ہے جس میں پنیر اور گوشت کے کباب بھرے ہوتے ہیں۔
بہت لذیذ رہی۔ بوسنیا کے لوگوں کو گوشت سے
کافی پیار ہے اور چکن کا مذاق کم ہی رکھتے ہیں۔ بعد میں "سریبرِنِتسکا"کی
یادگاری نمائیش دیکھی۔ سریبر نِتسکا
بوسنیا کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جہاں سرب
فوج نے ۱۹۹۵ء میں بلاتفریق تقریباً آٹھ ہزار افراد کا قتلِ عام کر ڈالا تھا۔ اِن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔ بعد کی
تحقیقات سے یہ بات پتہ چلی کہ یہ سب باقاعدہ منصوبہ
بندی کے بعد عمل میں لایا گیا تھا اور اِس کا مقصد بوسنیا قوم کی نسلی صفائی (Ethnic Cleansing) تھا ۔ اب مرنے والوں کی یاد میں سَرائیوو میں
ایک تصویروں کی نمائیش موجود ہے۔
 |
| بوسنیا کی مشہور ڈِش - چیواب |
تیسرا اور آخری دِن میں نے شہر کی خنک ہوا کا لطف لیتے
ہوئے گزارا۔ پہلے پہل بوسنیا کا قومی میوزیم دیکھا ۔ بہت بڑا میوزیم
ہے ۔۔ سو دو تین گھنٹے لگ گئے۔ پھر یہاں کی روائتی کافی پی۔ مشین کی بجائے آگ پہ پکائی ہوئی یہ کافی سخت اور قدرے
کڑوی تھی اور اِس کو انتہائی دلکش پیتل کے
کپ میں پیش کیا جاتا ہے۔ کھانے میں مَیں نے "بورَک" کھایا جو کہ قیمے سے
بھری ہوئی روٹی ہوتی ہے جِسے کوئلوں پہ تازہ تیار کیا جاتا ہے۔
 |
| بوسنیا کی روائتی کافی |
 |
| بلکان ریاستوں کی ایک مشہور ڈِش - بورَک - یہ سَرائیوو میں ہر جگہ سستے داموں دستیاب ہے۔ (source) |
شام کو
دریائے مِلیاتسکا کے کنارے چلتے چلتے مجھے
ایک کتا ب "The Cellist of Sarajevo" یاد آ گئی۔ اِس کتاب میں جنگ کے دوران کے شہر کے
حالات بیان کیے گئے ہیں۔ محاصرے کے دوران
ایک دِن لوگ صبح کے وقت روٹی لینے کے لیے ایک بیکری کے باہر لائن بنائے
کھڑے تھے جب ایک گولا اُن پہ برسا اور بائیس
لوگ اِس جگہ پہ ہلاک ہوگئے۔ ایک مقامی
وائلن بجانے والے نےبے بسی کے عالم میں فیصلہ کیا کہ وہ اِسی بیکری کے سامنے ، گولے کے کھڈے
میں بائیس دِن تک ایک خاص دھُن بجائے گا۔
شاید وہ اِس طرح دنیا کا ضمیر جھنجھوڑنا چاہ رہا تھا۔ ۱۹۹۶ء میں بلآخر دنیا
کی طاقتیں اِس نتیجے پہ پہنچ گئیں کہ بے شک اِس علاقے میں تیل یا اور کوئی مادی
ذخیرہ نہیں ہے مگر انسان یہاں بھی بستے ہیں۔ نیٹو کی مداخلت پہ سرب فوج کا زور ٹوٹا اور سَرائیوو نے دھیرے
دھیرے ، ڈرتے ڈرتے امن کی سانسیں لیں۔
 |
| دریائے مِلیاتسکا کے کنارے رات کا ایک منظر |
سَرائیوو نہایت خوبصورت شہر
ہے اور یہاں کے لوگ بہت مِلنسار ہیں۔ یہاں
کا بین الثقافتی رُجحان بہت متاثر کن
ہے۔ لوگ محاصرے اور جنگ کو بھلا کہ اپنی
زندگیوں کی بہتری اور شہر کی تعمیر
میں مگن ہیں۔ یہاں کے مختصر سفر میں سب سے
منفرد چیز میں نے یہی سیکھی کہ مستقبل کے بارے میں پُر امید
رویہ ہی زندگی اور خوشی کی ضمانت ہے۔ آگے بڑھتے رہنے کے لیے تعصب نکلنا بے
حد ضروری ہے کیونکہ سب مل کے ہی امن کی
کوشش میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
Comments
Post a Comment